.

.
مفاہمت نہ سکھا جبر ناروا سے مجھے
میں سر بکف ہوں لڑا دے کسی بلا سے مجھے
.

مُفَاہَمَت(mufaahamat) -باہم کسی معاملے پر سمجھوتا، فیصلہ، سمجھوتا
جبر ناروا (jabr-e-naarava) inappropriate, disallowed, unpermissible constraint, compulsion
سَر بَکَف (sar-ba-kaf) ہتھیلی پر سر رکھے ہوئے، جان دینے پر آمادہ، مرنے پر تیار
تلخیٔ نوا (talKHii-e-navaa) bitterness of voice
اِشْتِہا (ishtihaa) – کھانے کی خواہش، بھوک، گرسنگی
زمین آدم خور (zamiin-e-aadam-KHor) land of man devourers
شِمر (shimar) Name of one of Yazid’s generals who slew Husain in the plains of Karbala, —(hence) adj. Merciless, wicked, vile, infamous
.

.
کسی جھوٹی وفا سے دل کو بہلانا نہیں آتا
مجھے گھر کاغذی پھولوں سے مہکانا نہیں آتا
.

.
درد ہوتے ہیں کئی دل میں چھپانے کے لیے
سب کے سب آنسو نہیں ہوتے بہانے کے لیے
.

پس خندہ لبی (pas-e-KHanda-labii) after smiling lips
.
تمام عمر کی تنہائی کی سزا دے کر
تڑپ اٹھا مرا منصف بھی فیصلہ دے کر
.

.
اک پل بغیر دیکھے اسے کیا گزر گیا
ایسے لگا کہ ایک زمانہ گزر گیا
.

.
بس کوئی ایسی کمی سارے سفر میں رہ گئی
جیسے کوئی چیز چلتے وقت گھر میں رہ گئی
.

.
آغوش ستم میں ہی چھپا لے کوئی آ کر
تنہا تو تڑپنے سے بچا لے کوئی آ کر
.

.
ایسا بھی نہیں اس سے ملا دے کوئی آ کر
کیسا ہے وہ اتنا تو بتا دے کوئی آ کر
.

.
کس حوالے سے مجھے کس کا پتا یاد آیا
حسن کافر کو جو دیکھا تو خدا یاد آیا
.

.
غم کے ہر اک رنگ سے مجھ کو شناسا کر گیا
وہ مرا محسن مجھے پتھر سے ہیرا کر گیا
.

.
چل دیا وہ دیکھ کر پہلو مری تقصیر کا
دوسرا رخ اس نے دیکھا ہی نہیں تصویر کا
.

تَقْصِیر (taqsiir) – کوتاہی، قصور، خطا، گناہ، غلطی، کمی، سہو، چوٗک
ریگِ رَواں(reg-e-ravaa.n)– وہ چمکدار ریت جس میں جب ہوا چلتی ہے تو پانی کی طرح لہریں اُٹھتی ہوئی معلوم ہوتی ہیں، اُڑنے والی ریت، سراب
.

.
جب بیاں کرو گے تم ہم بیاں میں نکلیں گے
ہم ہی داستاں بن کر داستاں میں نکلیں گے
.

ہَیُولے(hayuule) – ہیولا کی جمع نیز مغیرہ حالت (تراکیب میں مستعمل) خاکے، شکلیں، (خصوصاً) پرچھائیاں، عکس، سائے
.
میرے رستے میں بھی اشجار اگایا کیجے
میں بھی انساں ہوں مرے سر پہ بھی سایا کیجے
.

.
میں گفتگو ہوں کہ تحریر کے جہان میں ہوں
مجھے سمجھ تو سہی میں تری زبان میں ہوں
.

.
غم ہے وہیں پہ غم کا سہارا گزر گیا
دریا ٹھہر گیا ہے کنارہ گزر گیا
.

.
تعلق اپنی جگہ تجھ سے برقرار بھی ہے
مگر یہ کیا کہ ترے قرب سے فرار بھی ہے
.

سیل ہوس (sail-e-havas)-torrent/current of lust
مَچَان (machaan)- درخت پر وہ اونچی جگہ جہاں شیر کے شکاری بیٹھ کر نشانہ لگاتے ہیں
کَچھا (kachhaar) -ندی یا سمندر کے کنارے کی تر، نم اور نشیبی زمین جو زرخیز ہوتی ہے
.
رخت سفر یوں ہی تو نہ بے کار لے چلو
رستہ ہے دھوپ کا کوئی دیوار لے چلو
.

پَتْوار( patvaar)-کشتی کا رخ پھیرنے یا موڑنے کا ھتا جو کشتی کے سرے پر لگا ہوتا ہے اس کے نچلے سرے کی دھار جس طرف پھیری
.
لوگوں کے درد اپنی پشیمانیاں ملیں
ہم شاہ غم تھے ہم کو یہی رانیاں ملیں
.

سیل آب (sail-e-aab)-storm of water, tears
طغیانیاں(tuGyaaniyaa.n) -storms
جولانیاں(jaulaaniyaa.n) – strutting, prances
مائے ستم (humaa-e-sitam)-fabled bird of tyranny -Huma-a bird of Eastern fable, looked upon as a bird of happy omen, prognosticating a crown for head it overshadows, phoenix
.
دل عجب گنبد کہ جس میں اک کبوتر بھی نہیں
اتنا ویراں تو مزاروں کا مقدر بھی نہیں
.

.
شور سا ایک ہر اک سمت بپا لگتا ہے
وہ خموشی ہے کہ لمحہ بھی صدا لگتا ہے
.

.
تیرے لیے چلے تھے ہم تیرے لیے ٹھہر گئے
تو نے کہا تو جی اٹھے تو نے کہا تو مر گئے
.

.
سَر نِگُوں(sar-niguu.n)- اوندھا، سر کے بل، خجل، شرمندہ، شکست خوردہ
.
.
.
Nazm
زمین ویتنام
میں بھی اک سر زمیں کا باسی ہوں
جو ابھی تک مری ہے
کل کا پتہ نہیں ہے کہ میرے پاؤں مری زمین پر پھسل رہے ہیں
کوئی بڑے زور دار ہاتھوں سے
دور بیٹھا
زمین کا پلو پکڑ کے اپنی طرف اسے کھینچتا ہی جاتا ہے
میں کھنچا جا رہا ہو پلو سمیت
ٹھہروں تو میرے پاؤں پھسل رہے ہیں
میں دوسری سمت منہ اگر کر کے بھاگ نکلوں
زمین کھنچ جائے پاؤں سے تو خلا میں گرنے کا ڈر ہے مجھ کو
زمین ویتنام
اس سے پہلے کہ میرے پیروں تلے سے میری زمین کھنچ جائے
آج تجھ سے مقابلہ اپنا کر رہا ہوں
کہ مجھ میں تجھ میں جو مشترک قدر ہے وہ جنگی صعوبتیں ہیں
مرا بھی دشمن وہی ہے جو تجھ سے لڑ رہا ہے
تری زمین پر بھی جنگ جاری
مری زمیں پر بھی جنگ جاری
اگر کوئی فرق ہے تو یہ ہے کہ اپنے دشمن کے سامنے تو بہادری سے ڈٹا ہوا ہے
میں جھک گیا ہوں
یہاں ذرا مختلف ہے صورت
کہ میرا دشمن ڈٹا ہوا ہے
میں سر بھی اپنا جھکا چکا ہوں
میں اس کی منت بھی کر چکا ہوں
مگر وہ بے رحم مارے ہی جا رہا ہے
کسی طرح مانتا نہیں ہے
بس اپنی منوائے جا رہا ہے
زمین ویتنام
تو نے اتنے برس گنوائے
کروڑوں افراد اپنے مروائے
تو نے منت ہی کی نہ سودا کیا نہ فوجوں کا سر جھکایا
عجب کہ تو نے رگوں میں خون کی بجائے بارود بھر لیا ہے
تو باؤلی ہے
یہ دیکھ بارہ کروڑ کے چند مالکوں کا بھی کارنامہ
انہیں بھی اک جنگ آ پڑی تھی
انہوں نے سولہ دنوں میں وہ کر دیا جو صدیوں میں بھی نہ ہوتا
جھکا دیے اپنے لاکھ فوجی
مٹا دئے اپنے لاکھ فوجی
مٹا دئے اپنے نصف جھگڑے
کٹا دیا اپنا نصف نقشہ
جو نصف باقی تھا اور سولہ دنوں کا جھگڑا تھا گر یہ رہتا
کیوں نہ ہوتا
کہ ہر بڑی قوم کام ایسے کیا ہی کرتی ہے جو کہ تاریخ کے لئے باب کھولتے ہیں
یہ کارنامہ
یہ صرف تاریخ کا نہیں ہے
یہ کارنامہ تو ہے جغرافیہ بھی جس نے بدل دیا ہے
بہت بڑی قوم کا یہ کرتب ہے
قوم سوئی بنانا اپنے لیے جو تو جانتی نہیں ہے
یہ قوم بارود جس کی خاطر بڑے ممالک بنا رہے ہیں
بہت بڑی قوم ہے بہت ہی
جہاز کے کارخانے بیرون ملک جس کے بنے ہوئے ہیں
وہ جس کی خاطر کہ بیوک امپالا فورڈ آرڈر پہ بن رہی ہے
مشین انجن ملوں کا سامان کارخانے کے سارے اوزار
ریڈیو ٹیلیفون ٹیلی ویژن ٹریکٹر مشین گن توپ
غرض ایک ایک شے اس کی اس کے کمی خود اپنے ملکوں میں اس کی خاطر بنا رہے ہیں
بہت بڑی قوم ہے کہ اس کے بڑے گھروں میں تو سر کا شیو بھی
تن کے کپڑے بھی اور جوتے بھی اس کے باہر سے آ رہے ہیں
زمین ویتنام
تیری مائیں تو اپنے بچے کے قد کو دیکھتی ہیں کہ اس کی لمبائی کار سے تو بڑی نہیں ہے
زمین ویتنام
بیٹیاں تیری اپنے شانوں پہ اپنے شیروں کا بوجھ لے کر پاؤں کی صورت ہیں ایستادہ
مگر یہاں بیٹیاں نہیں ہیں
یہاں تو تحفے ہیں
جو کہ باہر سے آئے سوداگروں کی خاطر تواضع کرنے کے واسطے کر رہے ہیں
زمین ویتنام
تیرے بیٹے تو تیرے وارث ترے محافظ ہیں
فوج وہ بن رہے ہیں تیری کہ تجھ پہ جانیں نثار کر دیں
زمین ویتنام
تیرے بیٹے تو تیرے وارث ترے محافظ ہیں
فوج وہ بن رہے ہیں تیری کہ تجھ پہ جانیں نثار کر دیں
یہاں پہ بیٹی نہیں تو بیٹے بھی اس زمیں نے نہیں جنے ہیں
یہاں تو تنخواہ کی ضرورت ہے فوج میں ہو کہ موج میں ہو
زمین ویتنام
تیرا آدم کہاں سے آیا تھا
بیٹیاں تیری کون سی بے مثال حوا کی بیٹیاں ہیں
زمین ویتنام تیری مٹی کہاں کی ہے جو کہ
تیرے دشمن نے چاند تسخیر کر لیا پر نہ تجھ کو جیتا
ترا خدا کون سا خدا ہے
مرے خدا کا سلام اس کو
مگر مرے ویتنام جو فرق تجھ میں مجھ میں ہے اور تھوڑا سا دور کر دوں
تری لڑائی تو صرف دشمن سے ہے کہ جو تیرے سامنے ہے
مری لڑائی ہے دشمنوں سے جو سامنے ہو کے بھی مرے سامنے نہیں ہیں
میں دشمنوں سے بھی لڑ رہا ہوں
میں دوستوں سے بھی لڑ رہا ہوں جو دوستی کا لباس پہنے
مری لڑائی اڑوسیوں سے پڑوسیوں سے
مری لڑائی ہے اپنے گھر میں
مری لڑائی سمندروں کے ادھر بھی قائم
مری لڑائی ہے جسم سے بھی
مری لڑائی ہے ذہن سے بھی
مری لڑائی تو سامراجی نظام سے ہے
جہاں جہاں سامراج ہے میں وہاں وہاں پر ڈٹا ہوا ہوں
میں اپنی غربت سے اپنی مظلومیت سے آگاہ ہو چکا ہوں
مری یہ غربت یہ میری مظلومیت ہی قوت ہے
وہ سپاہی نہیں ہے میرا جو اپنے ہیلمٹ کے بوجھ سے سر جھکا چکا ہے
جو صرف تنخواہ کے لیے میرا شیر جرنیل بن گیا ہے
میرا یہ قلاش میرا بیکار میرا مزدور وہ سپاہی ہے
جو مری فوج بن رہا ہے
زمین کے پلو کو اپنی اس تازہ فوج کی بے پناہ قوت سے تھام کر
اب میں اپنی جانب گھسیٹ لوں گا
گھسیٹ لوں گا میں ان کو بھی وہ جو دوسری سمت اپنے آہن کے ہاتھ لے کر
مری زمین اپنی سمت لالچ سے کھینچتے ہیں
زمین ویتنام گر تری سر زمیں پہ بارود کی تہیں بچھ گئی ہیں تو اس زمیں
کے کھیتوں میں بھی فقط گولیاں اگیں گی
یہاں بھی پیڑوں کو اب پھلوں کی بجائے بم ہی لگیں گے
اس سر زمیں پہ بھی آگ ہی کے دریا بہیں گے
جن میں کہ کوئی کاغذ کی ناؤ وہ سامراج کی ہو کہ میری اپنی
نہ چل سکے گی
زمین ویتنام میں بھی اک سر زمیں کا باسی ہوں
اس زمیں کا سلام تجھ کو
